ہم کو شاعر نہ کہو


cropped-muneebpic1.jpg
ہم کو شاعر نہ کہو
منیب الرحمن



سطحِ دریا پہ تہہ آب کو پینے کی ہوس
بلبلے کو بھی ہے گرداب کو پینے کی ہوس

ہم کو تالاب کا تالاب ملا، پی ڈالا
پھر بھی باقی رہی مہتاب کو پینے کی ہوس

رنگ آنکھوں میں بھی لاتا ہے مگر اف تیری
جگرِ سوختہ خونناب کو پینے کی ہوس

دیکھ لے آئی ہے صحرائے شبِ ظلمت میں
چشمِ دنیا یہ تری خواب کو پینے کی ہوس

ہم کو شاعر نہ کہو یار منیب الرحمن
کبھی ہوسکتی ہے غرقاب کو پینے کی ہوس

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s